نئی دہلی،24/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یکم جنوری 2016سے نریندر مودی حکومت نے مرکزی ملازمین کو 7 ویں پے کمیشن کا تحفہ دیا تھا۔اسی کے ساتھ ملازمین نے کچھ مسائل کو لے کر اپنااحتجاج درج کرایا تھا۔ملازمین نے غیر معینہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت پر دباؤ کام آیا۔حکومت کی جانب سے تین وزراء بات چیت کے لیے آگے آئے اور ملازمین لیڈروں کے مطالبات پر کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کردیا گیا۔ان کمیٹیوں کو چار ماہ کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو سونپنی تھی، لیکن ابھی تک 6 ماہ گزر چکے ہیں اور کمیٹیوں میں اب بھی بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے۔اب 6 مہینوں میں کچھ ہاتھ نہیں لگنے کی وجہ سے این سی جے سی ایم کے کنوینر اور ریلوے ملازم یونین کے لیڈر شیو گوپال مشرا نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اب پھر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو مکتوب لکھ کر وقت دینے کی درخواست کی ہے۔اپنے خط میں مشرا نے کہا کہ ہم لگاتار کمیٹیوں کے ساتھ میٹنگ کرکے کچھ بامعنی بات چیت کی امید کرتے رہے، لیکن حاصل کچھ بھی نہیں ہوا۔حال میں ہوئی ہم ملازم لیڈروں کی میٹنگ کا نتیجہ نکلا ہے کہ آپ (راج ناتھ)کے ساتھ ملاقات کرکے اس معاملے میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔اس خط میں ملازم لیڈروں نے صاف کہا کہ ساتویں پے کمیشن کو لے کر پورے ملک میں مرکزی ملازمین اور پنشن یافتگان میں کافی ناراضگی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حیرت انگیز ہے کہ حکومت کو ملازمین کا ایک بھی مطالبہ مناسب نہیں لگا۔انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ معاملے میں پنشن یافتگان کے فائدے کی ساتویں پے کمیشن کی طرف سے کی گئی صرف ایک سفارش کو بھی پنشن محکمہ نے مسترد کر دیا ہے۔